چھوڑے ہوئے جانوروں کی خریداری اور قربانی کا حکم
مسئلہ نمبر۲۰۰۰
(کتاب الغصب جدید مسائل)
سوال: غیر اللہ کے نام پر چھوڑا ہوا جانور جیسے لوگ مندروں میں یا پھر درگاہوں میں جانور دے دیتے کیا ان جانوروں کو خرید سکتے ہیں؟
دوسرا سوال یہ ہےکہ بعض دیہاتوں میں مندروں میں جو جانور دیے جاتے ہیں ان کی بولی لگائی جاتی ہے کیا ایسے جانور کو خرید کر قربانی کرنا جائز ہے ؟
اکرم ملی، مالیگاؤں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب و باللہ التوفیق
غیر اللہ کے نام پر چھوڑے ہوئے جانور اسی طرح مندروں میں دییے گیے اور درگاہوں پر نذر کے گیے جانور سب کے سب حرام ہیں، اور یہ کام شرکیہ اعمال میں داخل ہیں ہیں، ان سے بچنا ایک مسلمان کے لئے لازم و ضروری ہے، اور اس قسم کے جانور خرید کر قربانی کرنا بھی جائز نہیں ہے؛ ایسے جانوروں پر نہ بیچنے والے کی ملکیت ثابت ہوتی ہے اور نا خریدنے والے کی کیوں کہ صاحب جانور کو اگر معلوم ہوجائے کہ اس کے جانور کی خرید وفروخت کردی گئی ہے تو وہ سخت ناراض ہوگا اور قانونی کارروائی بھی کرسکتا ہے، اور شریعت کا اصول یہ ہے کہ جس پر آدمی کی ملکیت نہ ہو اس میں کسی بھی طرح کا تصرف جائز نہیں ہے(١)۔
فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب
والدليل على ما قلنا
(١) فَلَا يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ " (صحيح البخاري رقم الحديث 2435 كِتَابٌ : فِي اللُّقَطَةِ | بَابٌ : لَا تُحْتَلَبُ مَاشِيَةُ أَحَدٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ)
أَلَا لَا تَظْلِمُوا، إِنَّهُ لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ. (مسند أحمد رقم الحديث 20695 أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ. | حَدِيثُ عَمِّ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ
درء المفاسد أولى من جلب المصالح اي اذا تعارض مفسدة و مصلحة قدم دفع المفسدة لأن اعتناء الشرع بالمنهيات أشد من اعتناءه بالمامورات (الاشباه والنظائر لابن نجيم المصري ص 264، شرح المجلة 32/1 المادة 30)
لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي (رد المحتار على الدر المختار 1د05/5
الأصل أنه لا يجوز التصرف في ملك غيره أو في حق للغير إلا بإذن من الشارع أو من صاحب الحق و عندئذ لا يكون اعتداء فلا يجوز اكل طعام الغير إلا بإذن المالك أو في حالة الضرورة (الموسوعة الفقهية 152/3 استئذان)
كتبه العبد محمد زبير الندويدار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیامورخہ 1/12/1447

Comments