قربانی کا جانور گم ہوجانے کے بعد وجوب قربانی کا حکم

مسئلہ نمبر ۱۹۲۹

سوال: اگر قربانی کا جانور گم ہوجائے اور نہ ملے تو کیا کرنا چاہیے، دوسرا جانور خرید کر قربانی کر دی ہوگی یا قربانی ساقط ہو جائے گی؟

(عبید الرحمن لکھنو)

جواب: اگر قربانی کا جانور گم ہوجائے اور تلاش بسیار کے باوجود نہ مل سکے تو پھر اگر وہ کسی ایسے شخص کا جانور ہو جو صاحب نصاب ہو تو دوسرا جانور خرید کر یا بڑے جانور میں حصہ لے کر قربانی کرنا واجب ہوگا! لیکن اگر فقیر کا جانور ہو جس اس نے قربانی کے لیے ہی خریدا تھا تو اس کی قربانی ساقت ہو جائے گی اور اس کے لیے دوسرا جانور خرید کر قربانی کرنا ضروری نہیں ہوگا(١)۔

فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب

والدليل على ما قلنا 

(١) ﺇﺫَا اﺷْﺘَﺮَﻯ ﺷَﺎﺓً ﻟِﻷُْﺿْﺤِﻴَّﺔِ ﻭَﻫُﻮَ ﻣُﻮﺳِﺮٌ، ﺛُﻢَّ ﺇﻧَّﻬَﺎ ﻣَﺎﺗَﺖْ ﺃﻭ ﺳﺮﻗﺖ ﺃَﻭْ ﺿﻠﺖ ﻓِﻲ ﺃَﻳَّﺎﻡِ اﻟﻨَّﺤْﺮِ ﺃَﻧَّﻪُ ﻳَﺠِﺐُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﺃَﻥْ ﻳُﻀَﺤِّﻲَ ﺑِﺸَﺎﺓٍ ﺃُﺧْﺮَﻯ؛ ﻷَِﻥَّ اﻟْﻮُﺟُﻮﺏَ ﻓِﻲ ﺟُﻤْﻠَﺔِ اﻟْﻮَﻗْﺖِ ﻭَاﻟْﻤُﺸْﺘَﺮَﻯ ﻟَﻢْ ﻳَﺘَﻌَﻴَّﻦْ ﻟِﻠْﻮُﺟُﻮﺏِ ﻭَاﻟْﻮَﻗْﺖُ ﺑَﺎﻕٍ – ﻭَﻫُﻮَ ﻣِﻦْ ﺃَﻫْﻞِ اﻟْﻮُﺟُﻮﺏِ – ﻓَﻴَﺠِﺐُ…. ﻭَﺇِﻥْ ﻛَﺎﻥَ ﻣُﻌْﺴِﺮًا ﻓَﺎﺷْﺘَﺮَﻯ ﺷَﺎﺓً ﻟِﻷُْﺿْﺤِﻴَّﺔِ ﻓَﻬَﻠَﻜَﺖْ ﻓِﻲ ﺃَﻳَّﺎﻡِ اﻟﻨَّﺤْﺮِ ﺃَﻭْ ﺿَﺎﻋَﺖْ ﺳَﻘَﻄَﺖْ ﻋَﻨْﻪُ ﻭَﻟَﻴْﺲَ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﺷَﻲْءٌ ﺁﺧَﺮُ ﻟِﻤَﺎ ﺫَﻛَﺮْﻧَﺎ ﺃَﻥَّ اﻟﺸِّﺮَاءَ ﻣِﻦْ اﻟْﻔَﻘِﻴﺮِ ﻟِﻷُْﺿْﺤِﻴَّﺔِ ﺑِﻤَﻨْﺰِﻟَﺔِ اﻟﻨَّﺬْﺭِ ﻓَﺈِﺫَا ﻫَﻠَﻜَﺖْ ﻓَﻘَﺪْ ﻫَﻠَﻚَ ﻣَﺤَﻞُّ ﺇﻗَﺎﻣَﺔِ اﻟْﻮَاﺟِﺐِ ﻓَﻴَﺴْﻘُﻂُ ﻋَﻨْﻪُ ﻭَﻟَﻴْﺲَ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﺷَﻲْءٌ ﺁﺧَﺮُ ﺑِﺈِﻳﺠَﺎﺏِ اﻟﺸَّﺮْﻉِ اﺑْﺘِﺪَاءً ﻟِﻔَﻘْﺪِ ﺷَﺮْﻁِ اﻟْﻮُﺟُﻮﺏِ ﻭَﻫُﻮَ اﻟْﻴَﺴَﺎﺭُ. (بدائع الصنائع 2 /266)

كتبه العبد محمد زبير الندوي
دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا
مؤرخہ 2/12/1447

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Sign In

Register

Reset Password

Please enter your username or email address, you will receive a link to create a new password via email.

Winberry Casino Review 2026 — Canada's #1 Berry-Themed Casino | TheWinberry